مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی وزارت خارجہ نے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں اور نئی پابندیوں کی پالیسی کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی یکطرفہ پابندیاں بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
وزارت خارجہ نے امریکی اقتصادی دہشت گردی کے حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کی یکطرفہ پابندیاں غیر قانونی ہیں اور اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں، لہذا تمام ممالک پابندیوں پر عمل درآمد سے گریز کرنے کے پابند ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی حکومت نے ایران کے خلاف اقتصادی دہشت گردی کی ایک نئی لہر کا اعلان کیا، جو ایران اور پوری دنیا کے خلاف امریکی ریاستی دہشت گردی کے مترادف ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ڈالر کو دوسرے ممالک کو خوف زدہ کرنے اور انہیں ایران کے حوالے سے اپنی مداخلت پسندانہ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی پالیسیوں پر عمل کرنے پر مجبور کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنا، اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کی قومی خودمختاری اور حق خود ارادیت کی خلاف ورزی ہے۔
وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف امریکی پابندیاں اپنی نوعیت اور نتائج کے اعتبار سے اقوام متحدہ کے منشور کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
وزارت خارجہ نے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کے اعلان کو اس جارحانہ جنگ کا تسلسل قرار دیا جو امریکہ اور اسرائیلی حکومت نے گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران بے بنیاد بہانوں کی بنیاد پر ایران کے خلاف مسلط کی ہے۔
بیان میں اقوام متحدہ کے نظام اور اس کے رکن ممالک کی جانب سے امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی طرف سے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کے مقابلے میں بے حسی اور مصلحت پسندی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس طرز عمل نے قانون شکنی اور سنگین ترین بین الاقوامی جرائم کے ارتکاب کا ایک انتہائی خطرناک نمونہ تشکیل دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ